نئی دہلی،31؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔سی جے آئی کھیہر نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہاکہ حکومت عوام کے پیسے کا غلط استعمال کس طرح کرسکتی ہے؟۔ حکومت نے نہ تو پیسہ واپس لوٹایااورنہ ہی اس کی ذمہ داری لینے کوتیارہے۔کورٹ نے کہاکہ آپ یہ نہ بتائیں کہ کالج کی سوسائٹی کوحکومت یادوسراکون چلائے۔یوپی حکومت یہ بتائے کہ پیسہ کب واپس آرہاہے۔کورٹ نے یوپی حکومت کو معاملے پر 2ہفتے میں اپنا جواب دینے کو کہا ہے۔2016میں ہوئی سماعت کے دوران یوپی کے اٹاوہ میں چودھری چرن سنگھ ڈگری کالج کے کیس میں سپریم کورٹ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ 100کروڑ روپے ملائم حکومت نے دئے لیکن یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سرکاری املاک کسی پرائیویٹ سوسائٹی کو دی جائے؟۔سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا تھا کہ جو سوسائٹی اس کالج کو چلا رہی ہے اس کی تنظیم نو کیوں نہ کی جائے؟ اور سوسائٹی حکومت کی نگرانی میں کام کرے۔سوسائٹی میں سرکاری افسر بھی ہوں۔وہیں یوپی حکومت نے کورٹ میں کہا تھا کہ اس نے کالج آپریشن کے لئے سرکاری افسروں کی تقرری کی ہے۔حکومت نے یہ بھی بتایا تھا کہ آمدنی ریکارڈ میں کالج کی زمین حکومت کے نام ہی ہے۔دراصل ایس پی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کے گاؤں سیفئی کے پاس ہی ہیبرا نام کی جگہ پر چودھری چرن سنگھ ڈگری کالج ہے۔2004میں یوپی کے وزیر اعلی رہتے ملائم سنگھ یادو نے اس کالج کو حکومت کے فنڈ سے 100کروڑ روپے دئے تھے۔ملائم نے ایسا اپنے بھائی اور اس وقت عوامی امورکے وزیر رہے شیو پال سنگھ یادو کی سفارش پر کیا تھا۔اس کے خلاف منیندر ناتھ رائے نام کے شخص نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت اور کالج چلانے والے ٹرسٹ کے ساتھ ہی ملائم اور شیو پال کو بھی نوٹس جاری کیا تھا لیکن دونوں نے اب تک کوئی جواب داخل نہیں کیا۔